عبدلمجید چھینہ ۔ضلع لیّہ پنجاب

میں آج چھوٹے کسان کی بات کروں گا ۔اس کے نقصان کی بات کروں گا- اس  کی محرومی کی بات کروں گا۔ کیوںکہ  اگر چھوٹے کسان کی حالت پر نظر ڈالی جاۓ تو اس وقت معاشرے کا  سب سے مجبور طبقہ یہ چھوٹا کسان ہی ہے ۔ اور موسمیاتی تبدیلی نے اسکی کمر مزید توڑ دی ہے

 میں اگرخود اپنی بات کروں تو ہر سال چنے کے تقریبا” 400 کلو بیج بیجائ کرتا تھا گزشتہ سال مارچ  سے اکتوبر تک بارشیں نہ ھونے کی وجہ سے ضلع لیّہ  کے ِگِرد و نواح میں خشک سالی کا مسٔلہ درپیش تھاایسی صورتِ حال میں زمین میں نمی نہ ہونے کے سبب چنے کی بیجائ مشکل تھیپھر بھی میں نے رِسک لیا اور 100 کلو بیج بویا  کُل خرچ 15000 روپے تھااُمیّد تھی کہ اگر بارش ہوئ تو کچھ فصل ھو جاۓ گی

اگر بارش وقت پہ ہو جاتی توچنے کی  تقریبا” 62 من پیداوار حاصل ہوتی –لیکن بارش نہ ہوئ اور  خشک سالی کی وجہ سےصرف 4 من (یعنی 162کلو)  پیداوار ہوئ -جس میں سے فصل کٹائ کی مزدوری   1من دے دی-  آڑھتی صاحبان نے 12کلو حصّہ لے لیا-  اس کے بعد 110 کلو چنے بچے- لیکن  100 کلو چنا  تو میں نے بیج استعمال کیا تھا۔ جو تفریق کرنے کے بعد معلوم ہے مجھ جیسے چھوٹے کسان کو کیا حاصل ہوا؟

 جی ہاں  صرف 10 کلو چنے حاصل ہوۓ- صبح شام دن رات محنت کے بعد یہ ہے ایک چھوٹے کسان کی کمائی- وہ کسان جو تمام ملک کیلیے خوراک پیدا کرتا ہے خود نقصان کا شکار ہے- محرومی کا شکار ہے-  

اس سے آگے اب  کیا لکھوں-کو ئی سننے والا ہے – کوئی پڑھنے والا ہے؟  میرے مسئلے پر کوئی دھیان دینے والا ہے؟ 

اپنی راۓ اور   کمنتس کے لیے لکھیں- crvoices@gmail.com